ہجر کی رات چھوڑ جاتی ہے
کلام: فرحت عباس شاہ
ہجر کی رات چھوڑ جاتی ہےنت نئی بات چھوڑ جاتی ہے
عشق چلتا ہے تا ابد لیکنزندگی ساتھ چھوڑ جاتی ہے
کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)
مہمان شاعر: فرحت عباس شاہ
ہجر کی رات چھوڑ جاتی ہےنت نئی بات چھوڑ جاتی ہے
عشق چلتا ہے تا ابد لیکنزندگی ساتھ چھوڑ جاتی ہے