تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد
کلام: فرحت عباس شاہ
تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعدکتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد
اتنے چپ چاپ کہ رستے بھی رہیں گے لا علمچھوڑ جائیں گے کسی روز نگر شام کے بعد
کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)
مہمان شاعر: فرحت عباس شاہ
تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعدکتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد
اتنے چپ چاپ کہ رستے بھی رہیں گے لا علمچھوڑ جائیں گے کسی روز نگر شام کے بعد
جو اس کے چہرے پہ رنگ حیا ٹھہر جائےتو سانس، وقت، سمندر، ہوا ٹھہر جائے
وہ مسکرائے تو ہنس ہنس پڑیں کئی موسموہ گنگنائے تو باد صبا ٹھہر جائے