9 اشعار

پھاڑوں نہ گریبان , دمادم نہ کروں میں

PhaaDon na girebaan, damadam na karoon main

پھاڑوں نہ گریبان , دمادم نہ کروں میں

«پھاڑوں نہ گریبان , دمادم نہ کروں میں» فرحت عباس شاہ کا کلام ہے، جسے فرحت شاہ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 9 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

پھاڑوں نہ گریبان , دمادم نہ کروں میںاحساس کو اظہار سے باہم نہ کروں میں

میں روز اٹھاتا ہوں کسی خواب کی میتاور آپ یہ کہتے ہیں کہ ماتم نہ کروں میں

سمجھاتا تو ہوں خود کو کہ مضبوط رکھوں دلاور آنکھ کوتنہائی میں بھی نم نہ کروں میں

چلانے پہ کہتے ہو بغاوت ھے بغاوتاور صبر پہ کہتے ہو کبھی کم نہ کروں میں

خاموش رہوں گر تو انہیں چین نہیں ھےکچھ بولوں تو کہتےہیں کہ برہم نہ کروں میں

اک شخص دکھا دو مجھے ہنستا ہوا دل سےیعنی کہ یہ سب دیکھ کےبھی غم نہ کروں

صد حیف جو مظلوم کی آواز نہ بن پاوںصد حیف اگر شعر کو پرچم نہ کروں میں

کل کس کو دکھا پاوں گا منہ روزقیامتنظریہءحق اب جو مقدم نہ کروں میں

فرحت میں حسین ابن علی والا ہوں سن لومرجاوں مگر مر کے بھی سر خم نہ کروں میں

— فرحت عباس شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں