رابعہ
کلام: فرحت عباس شاہ
رابعہ!او میری اجنبی رابعہ
مجھ کو کب علم تھااتنی صدیوں پرانی شناسائی یوں پل بھر میں نکل آۓ گی
کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)
مہمان شاعر: فرحت عباس شاہ
رابعہ!او میری اجنبی رابعہ
مجھ کو کب علم تھااتنی صدیوں پرانی شناسائی یوں پل بھر میں نکل آۓ گی