5 اشعار

وہی ہے جبر ، وہی بے بسی ہماری ہے

Wohi hai jabr, wohi be-basi humari hai

وہی ہے جبر ، وہی بے بسی ہماری ہے

«وہی ہے جبر ، وہی بے بسی ہماری ہے» فرحت عباس شاہ کا کلام ہے، جسے فرحت شاہ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 9 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

وہی ہے جبر ، وہی بے بسی ہماری ہےوہی خدا ہیں ، وہی بندگی ہماری ہے

نہ دکھ ہی بدلے ، نہ دکھ دینے والے بدلے ہیںوہی نصیب ، وہی زندگی ہماری ہے

ہے کب کسی کے کہیں آنے جانے سے بدلییہ مستقل ہے ، یہ لاچارگی ہماری ہے

ہمیں پتہ ہے ، نہیں ہے بہادری اسکیہمیں پتہ ہے کہ یہ بزدلی ہماری ہے

عدالتیں ہوں یا سرکار ہو یا کتے ہوںسبھی ہے انکا ، فقط شاعری ہماری ہے

— فرحت عباس شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں