8 اشعار

یہ پیرہن جو مری روح کا اتر نہ سکا

Yeh pairahan jo meri rooh ka utar na saka

یہ پیرہن جو مری روح کا اتر نہ سکا

«یہ پیرہن جو مری روح کا اتر نہ سکا» فہمیدہ ریاض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

یہ پیرہن جو مری روح کا اتر نہ سکاتو نخ بہ نخ کہیں پیوست ریشۂ دل تھا

مجھے مآل سفر کا ملال کیوں کر ہوکہ جب سفر ہی مرا فاصلوں کا دھوکا تھا

میں جب فراق کی راتوں میں اس کے ساتھ رہیوہ پھر وصال کے لمحوں میں کیوں اکیلا تھا

وہ واسطے کی ترا درمیاں بھی کیوں آئےخدا کے ساتھ مرا جسم کیوں نہ ہو تنہا

سراب ہوں میں تری پیاس کیا بجھاؤں گیاس اشتیاق سے تشنہ زباں قریب نہ لا

سراب ہوں کہ بدن کی یہی شہادت ہےہر ایک عضو میں بہتا ہے ریت کا دریا

جو میرے لب پہ ہے شاید وہی صداقت ہےجو میرے دل میں ہے اس حرف رایگاں پہ نہ جا

جسے میں توڑ چکی ہوں وہ روشنی کا طلسمشعاع نور ازل کے سوا کچھ اور نہ تھا

— فہمیدہ ریاض