6 اشعار

جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہے

Jo Mujh Mein Chhupa Mera Gala Ghont Raha Hai

جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہے

«جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہے» فہمیدہ ریاض کا کلام ہے، جسے عباس نقوی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہےیا وہ کوئی ابلیس ہے یا میرا خدا ہے

جب سر میں نہیں عشق تو چہرے پہ چمک ہےیہ نخل خزاں آئی تو شاداب ہوا ہے

کیا میرا زیاں ہے جو مقابل ترے آ جاؤںیہ امر تو معلوم کہ تو مجھ سے بڑا ہے

میں بندہ و ناچار کہ سیراب نہ ہو پاؤںاے ظاہر و موجود مرا جسم دعا ہے

ہاں اس کے تعاقب سے مرے دل میں ہے انکاروہ شخص کسی کو نہ ملے گا نہ ملا ہے

کیوں نور ابد دل میں گزر کر نہیں پاتاسینے کی سیاہی سے نیا حرف لکھا ہے

— فہمیدہ ریاض

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں