8 اشعار

قطرہ قطرہ

Qatra Qatra

قطرہ قطرہ

«قطرہ قطرہ» فہمیدہ ریاض کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

قطرہ قطرہ دل میں آنسو گرتے ہیںاک آنسو اس شخص کا جو بیگانہ ہے

اک آنسو اس نام کا جو ہم لے نہ سکےاک آنسو اس دعا کا جو پوری نہ ہوئی

ایک فضول سی بات کہ جو بے سود کہیآنسو میرا خواب میں جس سے گھبراؤں

آنسو میری مراد جسے میں بھلاؤںاک آنسو اس چہرے کا جو یاد رہے

آنکھوں کے رستے جو دل میں اتر جائےاک آنسو اس ٹھہرے ٹھہرے لہجے کا

اک آنسو اس وہم کا ذہن میں جو آیااک آنسو اس جھوٹ کا جو اوروں سے کہا

پھیکی ہنسی سے کیسے قصہ ختم کیالمحہ لمحہ رات گزرتی جاتی ہے

قطرہ قطرہ دل میں آنسو گرتے ہیں

— فہمیدہ ریاض

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں