15 اشعار

آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاں

Aai Hai Kuchh Na Poochh Qayamat Kahan Kahan

آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاں

«آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاں» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاںاف لے گئی ہے مجھ کو محبت کہاں کہاں

بیتابی و سکوں کی ہوئیں منزلیں تمامبہلائیں تجھ سے چھٹ کے طبیعت کہاں کہاں

فرقت ہو یا وصال وہی اضطراب ہےتیرا اثر ہے اے غم فرقت کہاں کہاں

ہر جنبش نگاہ میں صد کیف بے خودیبھرتی پھرے گی حسن کی نیت کہاں کہاں

راہ طلب میں چھوڑ دیا دل کا ساتھ بھیپھرتے لیے ہوئے یہ مصیبت کہاں کہاں

دل کے افق تک اب تو ہیں پرچھائیاں تریلے جائے اب تو دیکھ یہ وحشت کہاں کہاں

اے نرگس سیاہ بتا دے ترے نثارکس کس کو ہے یہ ہوش یہ غفلت کہاں کہاں

نیرنگ عشق کی ہے کوئی انتہا کہ یہیہ غم کہاں کہاں یہ مسرت کہاں کہاں

بیگانگی پر اس کی زمانے سے احترازدر پردہ اس ادا کی شکایت کہاں کہاں

فرق آ گیا تھا دور حیات و ممات میںآئی ہے آج یاد وہ صورت کہاں کہاں

جیسے فنا بقا میں بھی کوئی کمی سی ہومجھ کو پڑی ہے تیری ضرورت کہاں کہاں

دنیا سے اے دل اتنی طبیعت بھری نہ تھیتیرے لئے اٹھائی ندامت کہاں کہاں

اب امتیاز عشق و ہوس بھی نہیں رہاہوتی ہے تیری چشم عنایت کہاں کہاں

ہر گام پر طریق محبت میں موت تھیاس راہ میں کھلے در رحمت کہاں کہاں

ہوش و جنوں بھی اب تو بس اک بات ہیں فراقؔہوتی ہے اس نظر کی شرارت کہاں کہاں

— فراق گورکھپوری