17 اشعار

آج بھی قافلۂ عشق رواں ہے کہ جو تھا

Aaj Bhi Qafila-e-Ishq Rawan Hai Ke Jo Tha

آج بھی قافلۂ عشق رواں ہے کہ جو تھا

«آج بھی قافلۂ عشق رواں ہے کہ جو تھا» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

آج بھی قافلۂ عشق رواں ہے کہ جو تھاوہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا

پھر ترا غم وہی رسوائے جہاں ہے کہ جو تھاپھر فسانہ بحدیث دگراں ہے کہ جو تھا

منزلیں گرد کے مانند اڑی جاتی ہیںوہی انداز جہان گزراں ہے کہ جو تھا

ظلمت و نور میں کچھ بھی نہ محبت کو ملاآج تک ایک دھندلکے کا سماں ہے کہ جو تھا

یوں تو اس دور میں بے کیف سی ہے بزم حیاتایک ہنگامہ سر رطل گراں ہے کہ جو تھا

لاکھ کر جور و ستم لاکھ کر احسان و کرمتجھ پہ اے دوست وہی وہم و گماں ہے کہ جو تھا

آج پھر عشق دو عالم سے جدا ہوتا ہےآستینوں میں لیے کون و مکاں ہے کہ جو تھا

عشق افسردہ نہیں آج بھی افسردہ بہتوہی کم کم اثر سوز نہاں ہے کہ جو تھا

نظر آ جاتے ہیں تم کو تو بہت نازک بالدل مرا کیا وہی اے شیشہ گراں ہے کہ جو تھا

جان دے بیٹھے تھے اک بار ہوس والے بھیپھر وہی مرحلۂ سود و زیاں ہے کہ جو تھا

آج بھی صید گہ عشق میں حسن سفاکلیے ابرو کی لچکتی سی کماں ہے کہ جو تھا

پھر تری چشم سخن سنج نے چھیڑی کوئی باتوہی جادو ہے وہی حسن بیاں ہے کہ جو تھا

رات بھر حسن پر آئے بھی گئے سو سو رنگشام سے عشق ابھی تک نگراں ہے کہ جو تھا

جو بھی کر جور و ستم جو بھی کر احسان و کرمتجھ پہ اے دوست وہی وہم و گماں ہے کہ جو تھا

آنکھ جھپکی کہ ادھر ختم ہوا روز وصالپھر بھی اس دن پہ قیامت کا گماں ہے کہ جو تھا

قرب ہی کم ہے نہ دوری ہی زیادہ لیکنآج وہ ربط کا احساس کہاں ہے کہ جو تھا

تیرہ بختی نہیں جاتی دل سوزاں کی فراقؔشمع کے سر پہ وہی آج دھواں ہے کہ جو تھا

— فراق گورکھپوری