5 اشعار

آفاق میں پھیلے ہوئے منظر سے نکل کر

Aafaaq mein phaile hue manzar se nikal kar

آفاق میں پھیلے ہوئے منظر سے نکل کرچاہا تجھے موجود و میسر سے نکل کر

دن سے بھی اٹھاتے نہیں ہم رات کے پردےخوابوں کے تعاقب میں ہیں بستر سے نکل کر

دیوار کے سائے میں بھی اک شہر ہے آباددیکھا ہی نہیں تو نے کبھی گھر سے نکل کر

چشمے پہ جو پانی کے لیے ہاتھ بڑھاؤںچنگاریاں آ جاتی ہیں پتھر سے نکل کر

پہچان رہی تھی مجھے ساحل پہ بچھی ریتاک لہر چلی آئی سمندر سے نکل کر

— غلام محمد قاصر