5 اشعار

خاموش تھے تم اور بولتا تھا بس ایک ستارہ آنکھوں میں

Khamosh the tum aur bolta tha bas ek sitara aankhon mein

خاموش تھے تم اور بولتا تھا بس ایک ستارہ آنکھوں میںمیں کیسے نہ رکتا چلنے لگا جب سرخ اشارہ آنکھوں میں

منظر میں کناروں سے باہر دریائے محبت بہتا ہےاور پس منظر میں نیلے سے آنچل کا کنارا آنکھوں میں

ہر سال بہار سے پہلے میں پانی پر پھول بناتا ہوںپھر چاروں موسم لکھ جاتے ہیں نام تمہارا آنکھوں میں

اب کہنے والے کہتے ہیں اس شہر میں رات نہیں ہوتیاک ایسا ہی دن تھا وہ چہرہ جب میں نے اتارا آنکھوں میں

سوچا ہے تمہاری آنکھوں سے اب میں ان کو ملوا ہی دوںکچھ خواب جو ڈھونڈتے پھرتے ہیں جینے کا سہارا آنکھوں میں

— غلام محمد قاصر