5 اشعار

اپنے اشعار کو رسوا سر بازار کروں

Apne ash'aar ko ruswa sar-e-bazaar karoon

اپنے اشعار کو رسوا سر بازار کروںکیسے ممکن ہے کہ میں مدحت دربار کروں

دل میں مقتول کی تصویر لیے پھرتا ہوںاور قاتل سے عقیدت کا بھی اظہار کروں

یہی منشور محبت ہے کہ وہ پیکر ظلمجس کو نفرت سے نوازے میں اسے پیار کروں

اب مرے شہر کی پہچان ہے اک وعدہ شکنشہریت بدلوں کہ تاریخ کا انکار کروں

رات بھر جاگ کے تعمیر کروں قصر امیدصبح تکمیل سے پہلے اسے مسمار کروں

— غلام محمد قاصر