5 اشعار

آنکھ سے بچھڑے کاجل کو تحریر بنانے والے

Aankh se bichhde kajal ko tehreer banane wale

آنکھ سے بچھڑے کاجل کو تحریر بنانے والےمشکل میں پڑ جائیں گے تصویر بنانے والے

یہ دیوانہ پن تو رہے گا دشت کے ساتھ سفر میںسائے میں سو جائیں گے زنجیر بنانے والے

اس نے تو دیکھے ان دیکھے خواب سبھی لوٹائےاور تھے شاید ٹوٹی ہوئی تعبیر بنانے والے

سونے کی دیوار سے آگے میرے کام نہ آئےسچے جذبے مٹی کو اکسیر بنانے والے

جزو شعر نہیں ہیں قاصرؔ جزو جاں کر ڈالےہم کو جتنے درد ملے تھے میرؔ بنانے والے

— غلام محمد قاصر