5 اشعار

ملنے کی ہر آس کے پیچھے ان دیکھی مجبوری تھی

Milne ki har aas ke peechhe un dekhi majboori thi

ملنے کی ہر آس کے پیچھے ان دیکھی مجبوری تھیراہ میں دشت نہیں پڑتا تھا چار گھروں کی دوری تھی

جذبوں کا دم گھٹنے لگا ہے لفظوں کے انبار تلےپہلے نشاں زد کر لینا تھا جتنی بات ضروری تھی

تیری شکل کے ایک ستارے نے پل بھر سرگوشی کیشاید ماہ و سال وفا کی بس اتنی مزدوری تھی

پیار گیا تو کیسے ملتے رنگ سے رنگ اور خواب سے خوابایک مکمل گھر کے اندر ہر تصویر ادھوری تھی

ایک غزال کو دور سے دیکھا اور غزل تیار ہوئیسہمے سہمے سے لفظوں میں ہلکی سی کستوری تھی

— غلام محمد قاصر