6 اشعار

سوئے ہوئے جذبوں کو جگانا ہی نہیں تھا

Soye hue jazbon ko jagana hi nahin tha

سوئے ہوئے جذبوں کو جگانا ہی نہیں تھااے دل وہ محبت کا زمانہ ہی نہیں تھا

مہکے تھے چراغ اور دہک اٹھی تھیں کلیاںگو سب کو خبر تھی اسے آنا ہی نہیں تھا

دیوار پہ وعدوں کی امر بیل چڑھا دیرخصت کے لیے اور بہانہ ہی نہیں تھا

اڑتی ہوئی چنگاریاں سونے نہیں دیتیںروٹھے ہوئے اس خط کو جلانا ہی نہیں تھا

نیندیں بھی نظر بند ہیں تعبیر بھی قیدیزنداں میں کوئی خواب سنانا ہی نہیں تھا

پانی تو ہے کم نقل مکانی ہے زیادہیہ شہر سرابوں میں بسانا ہی نہیں تھا

— غلام محمد قاصر