6 اشعار

محبت کی گواہی اپنے ہونے کی خبر لے جا

Mohabbat ki gawahi apne hone ki khabar le ja

محبت کی گواہی اپنے ہونے کی خبر لے جاجدھر وہ شخص رہتا ہے مجھے اے دل! ادھر لے جا

سجی ہے بزم شبنم تو تبسم کام آئے گاتعارف پھول کا درپیش ہے تو چشم تر لے جا

اندھیرے میں گیا وہ روشنی میں لوٹ آئے گادیا جو دل میں جلتا ہے اسی کو بام پر لے جا

اڑانوں آسمانوں آشیانوں کے لیے طائر!یہ پر ٹوٹے ہوئے میرے یہ معیار نظر لے جا

زمانوں کو اڑانیں برق کو رفتار دیتا تھامگر مجھ سے کہا ٹھہرے ہوئے شام و سحر لے جا

کوئی منہ پھیر لیتا ہے تو قاصرؔ اب شکایت کیاتجھے کس نے کہا تھا آئنے کو توڑ کر لے جا

— غلام محمد قاصر