5 اشعار

پھر وہی کہنے لگے تو مرے گھر آیا تھا

Phir wohi kehne lage tu mere ghar aaya tha

پھر وہی کہنے لگے تو مرے گھر آیا تھاچاند جن چار گواہوں کو نظر آیا تھا

رنگ پھولوں نے چنے آپ سے ملتے جلتےاور بتاتے بھی نہیں کون ادھر آیا تھا

بوند بھی تشنہ ابابیل پہ نازل نہ ہوئیورنہ بادل تو بلندی سے اتر آیا تھا

تو نے دیکھا ہی نہیں ورنہ وفا کا مجرماپنی آنکھیں تری دہلیز پہ دھر آیا تھا

بھول بیٹھے ہیں نئے خواب کی سرشاری میںاس سے پہلے بھی تو اک خواب نظر آیا تھا

— غلام محمد قاصر