5 اشعار

بن سے فصیل شہر تک کوئی سوار بھی نہیں

Ban se faseel-e-shehar tak koi sawar bhi nahin

بن سے فصیل شہر تک کوئی سوار بھی نہیںکس کو بٹھائیں تخت پر گرد و غبار بھی نہیں

برگ و گل و طیور سب شاخوں کی سمت اڑ گئےقصر جہاں پناہ میں نقش و نگار بھی نہیں

سایوں کی زد میں آ گئیں ساری غلام گردشیںاب تو کنیز کے لیے راہ فرار بھی نہیں

میلے لباس کی دعا پہنچے شبیہ شاخ تکشاہوں کے پائیں باغ میں ایسا مزار بھی نہیں

کل ہمہ تن جمال تھے آئنے حسب حال تھےسنتے ہیں اب وہ خال و خد عکس کے پار بھی نہیں

— غلام محمد قاصر