6 اشعار

ذہن میں دائرے سے بناتا رہا دور ہی دور سے مسکراتا رہا

Zehn mein daaire se banata raha dur hi dur se muskurata raha

ذہن میں دائرے سے بناتا رہا دور ہی دور سے مسکراتا رہامیں سمندر نہیں چاند کو علم ہے رات بھر پھر بھی مجھ کو بلاتا رہا

آنکھ میں خیمہ زن نیلگوں وسعتیں اپنا پہلا قدم ہی خلاؤں میں ہےجو جفا کے جزیرہ نماؤں میں ہے دل کا اس خاک خستہ سے ناتا رہا

کج ادائی کی چادر سے منہ ڈھانپ کر سونے والا سر شام ہی سو گیاخشک یادوں کے پتوں بھرے کھیت میں سانپ سا رات بھر سرسراتا رہا

دیر تک زرد آندھی سی چلتی رہی سانس بجھتی رہی شمع جلتی رہیجاں پگھلتی رہی رات ڈھلتی رہی میں نہ روٹھا مگر وہ مناتا رہا

ان سنی سی صداؤں کے گھیرے میں تھا دیکھتے دیکھتے گھپ اندھیرے میں تھاوہ مجھے پا کے دنیا کے بخشے ہوئے سب کے سب کھوٹے سکے چلاتا رہا

آزمائش میں ہے وہ گھڑی عید کی چاند نے جس کے آنے کی تائید کیاک پھٹے پیرہن پر پسینے کی تہہ ایک گھر خوشبوؤں میں نہاتا رہا

— غلام محمد قاصر