5 اشعار

یہ جہاں نورد کی داستاں یہ فسانہ ڈولتے سائے کا

Yeh jahan-naward ki dastan yeh fasana dolte saaye ka

یہ جہاں نورد کی داستاں یہ فسانہ ڈولتے سائے کامرے سر بریدہ خیال ہیں کہ دھواں ہے سونی سرائے کا

وہ ہوا کا چپکے سے جھانکنا کسی بھولے بسرے مدار سےکہیں گھر میں شہر کی ظلمتیں کہیں چھت پہ چاند کرائے کا

گل ماہ گھومتے چاک پر کف کوزہ گر سے پھسل گئیکہ بساط گردش سال و سن یہی فرق اپنے پرائے کا

مرا نطق بھی ہے نگاہ بھی مری شاعری کا گواہ بھیتری دوستی کے محاذ پر وہ لرزتا عکس کنائے کا

کہ اسی کے نام تک آئے تھے یہ صدا و صدق کے سلسلےوہی شخص جس نے ترے لیے کیا قتل سوچتی رائے کا

— غلام محمد قاصر