5 اشعار

بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو

Barood ke badle hathon mein aa jaaye kitab to achha ho

بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہواے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو

ہر پتا نا آسودہ ہے ماحول چمن آلودہ ہےرہ جائیں لرزتی شاخوں پر دو چار گلاب تو اچھا ہو

یوں شور کا دریا بپھرا ہے چڑیوں نے چہکنا چھوڑ دیاخطرے کے نشان سے نیچے اب اترے سیلاب تو اچھا ہو

ہر سال کی آخری شاموں میں دو چار ورق اڑ جاتے ہیںاب اور نہ بکھرے رشتوں کی بوسیدہ کتاب تو اچھا ہو

ہر بچہ آنکھیں کھولتے ہی کرتا ہے سوال محبت کادنیا کے کسی گوشے سے اسے مل جائے جواب تو اچھا ہو

— غلام محمد قاصر