7 اشعار

شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے

Shauq barahna pa chalta tha aur raste pathriley the

شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھےگھستے گھستے گھس گئے آخر کنکر جو نوکیلے تھے

خار چمن تھے شبنم شبنم پھول بھی سارے گیلے تھےشاخ سے ٹوٹ کے گرنے والے پتے پھر بھی پیلے تھے

سرد ہواؤں سے تو تھے ساحل کے ریت کے یارانےلو کے تھپیڑے سہنے والے صحراؤں کے ٹیلے تھے

تابندہ تاروں کا تحفہ صبح کی خدمت میں پہنچارات نے چاند کی نذر کیے جو تارے کم چمکیلے تھے

سارے سپیرے ویرانوں میں گھوم رہے ہیں بین لیےآبادی میں رہنے والے سانپ بڑے زہریلے تھے

تم یوں ہی ناراض ہوئے ہو ورنہ مے خانے کا پتاہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے

کون غلام محمد قاصرؔ بے چارے سے کرتا باتیہ چالاکوں کی بستی تھی اور حضرت شرمیلے تھے

— غلام محمد قاصر