8 اشعار

کہیں لوگ تنہا کہیں گھر اکیلے

Kahin log tanha kahin ghar akele

کہیں لوگ تنہا کہیں گھر اکیلےکہاں تک میں دیکھوں یہ منظر اکیلے

گلی میں ہواؤں کی سرگوشیاں ہیںگھروں میں مگر سب صنوبر اکیلے

نمائش ہزاروں نگاہوں نے دیکھیمگر پھول پہلے سے بڑھ کر اکیلے

اب اک تیر بھی ہو لیا ساتھ ورنہپرندہ چلا تھا سفر پر اکیلے

جو دیکھو تو اک لہر میں جا رہے ہیںجو سوچو تو سارے شناور اکیلے

تری یاد کی برف باری کا موسمسلگتا رہا دل کے اندر اکیلے

ارادہ تھا جی لوں گا تجھ سے بچھڑ کرگزرتا نہیں اک دسمبر اکیلے

زمانے سے قاصرؔ خفا تو نہیں ہیںکہ دیکھے گئے ہیں وہ اکثر اکیلے

— غلام محمد قاصر