7 اشعار

بیاباں دور تک میں نے سجایا تھا

Bayaban door tak main ne sajaya tha

بیاباں دور تک میں نے سجایا تھامگر وہ شہر کے رستے سے آیا تھا

دیئے کی آرزو کو جب بجھایا تھاپھر اس کے بعد آہٹ تھی نہ سایہ تھا

اسے جب دیکھنے کے بعد دیکھا تووہ خود بھی دل ہی دل میں مسکرایا تھا

دل و دیوار تھے اک نام کی زد پرکہیں لکھا کہیں میں نے مٹایا تھا

ہزاروں اس میں رہنے کے لیے آئےمکاں میں نے تصور میں بنایا تھا

جہاں نے مجھ کو پہلے ہی خبر کر دیکبوتر دیر سے پیغام لایا تھا

چلے ملاح کشتی گیت امیدیںکہ جیسے سب کو ساحل نے بلایا تھا

— غلام محمد قاصر