6 اشعار

وہ بے دلی میں کبھی ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں

Woh be-dili mein kabhi haath chhod dete hain

وہ بے دلی میں کبھی ہاتھ چھوڑ دیتے ہیںتو ہم بھی سیر سماوات چھوڑ دیتے ہیں

جب ان کے گرد کہانی طواف کرنے لگےتو درمیاں سے کوئی بات چھوڑ دیتے ہیں

دعا کریں گے مگر اس مقام سے آگےتمام لفظ جہاں ساتھ چھوڑ دیتے ہیں

دیئے ہوں اتنے کہ خوابوں کو راستہ نہ ملےتو شہر اپنی روایات چھوڑ دیتے ہیں

ہر ایک شاخ پہ جب سانپ کا گماں گزرےفقیر کشف و کرامات چھوڑ دیتے ہیں

جمال اپنے نظاروں میں کھو گیا اے دلسو اس کی میز پہ سوغات چھوڑ دیتے ہیں

— غلام محمد قاصر