6 اشعار

ہجر کے تپتے موسم میں بھی دل ان سے وابستہ ہے

Hijr ke tapte mausam mein bhi dil un se wabasta hai

ہجر کے تپتے موسم میں بھی دل ان سے وابستہ ہےاب تک یاد کا پتا پتا ڈالی سے پیوستہ ہے

مدت گزری دور سے میں نے ایک سفینہ دیکھا تھااب تک خواب میں آ کر شب بھر دریا مجھ کو ڈستا ہے

شام ابد تک ٹکرانے کا اذن نہیں ہے دونوں کوچاند اسی پر گرم سفر ہے جو سورج کا رستہ ہے

تیز نہیں گر آنچ بدن کی جم جاؤگے رستے میںاس بستی کو جانے والی پگڈنڈی یخ بستہ ہے

آیا ہے اک راہ نما کے استقبال کو اک بچہپیٹ ہے خالی آنکھ میں حسرت ہاتھوں میں گلدستہ ہے

لفظوں کا بیوپار نہ آیا اس کو کسی مہنگائی میںکل بھی قاصرؔ کم قیمت تھا آج بھی قاصر سستا ہے

— غلام محمد قاصر