5 اشعار

گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہے

Galiyon ki udasi poochhti hai ghar ka sannata kehta hai

گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہےاس شہر کا ہر رہنے والا کیوں دوسرے شہر میں رہتا ہے

اک خواب نما بیداری میں جاتے ہوئے اس کو دیکھا تھااحساس کی لہروں میں اب تک حیرت کا سفینہ بہتا ہے

پھر جسم کے منظر نامے میں سوئے ہوئے رنگ نہ جاگ اٹھیںاس خوف سے وہ پوشاک نہیں بس خواب بدلتا رہتا ہے

چھ دن تو بڑی سچائی سے سانسوں نے پیام رسانی کیآرام کا دن ہے کس سے کہیں دل آج جو صدمے سہتا ہے

ہر عہد نے زندہ غزلوں کے کتنے ہی جہاں آباد کیےپر تجھ کو دیکھ کے سوچتا ہوں اک شعر ابھی تک رہتا ہے

— غلام محمد قاصر