9 اشعار

نظر نظر میں ادائے جمال رکھتے تھے

Nazar nazar mein ada-e-jamaal rakhte the

نظر نظر میں ادائے جمال رکھتے تھےہم ایک شخص کا کتنا خیال رکھتے تھے

جبیں پہ آنے نہ دیتے تھے اک شکن بھی کبھیاگرچہ دل میں ہزاروں ملال رکھتے تھے

خوشی اسی کی ہمیشہ نظر میں رہتی تھیاور اپنی قوت غم بھی بحال رکھتے تھے

بس اشتیاق تکلم میں بارہا ہم لوگجواب دل میں زباں پر سوال رکھتے تھے

اسی سے کرتے تھے ہم روز و شب کا اندازہزمیں پہ رہ کے وہ سورج کی چال رکھتے تھے

جنوں کا جام محبت کی مے خرد کا خمارہمیں تھے وہ جو یہ سارے کمال رکھتے تھے

چھپا کے اپنی سسکتی سلگتی سوچوں سےمحبتوں کے عروج و زوال رکھتے تھے

کچھ ان کا حسن بھی تھا ماورا مثالوں سےکچھ اپنا عشق بھی ہم بے مثال رکھتے تھے

خطا نہیں جو کھلے پھول راہ صرصر میںیہ جرم ہے کہ وہ فکر مآل رکھتے تھے

— غلام محمد قاصر