5 اشعار

ہر ایک پل کی اداسی کو جانتا ہے تو آ

Har ek pal ki udasi ko jaanta hai tu aa

ہر ایک پل کی اداسی کو جانتا ہے تو آمرے وجود کو تو دل سے مانتا ہے تو آ

وفا کے شہر میں اب لوگ جھوٹ بولتے ہیںتو آ رہا ہے مگر سچ کو مانتا ہے تو آ

مرے دیئے نے اندھیرے سے دوستی کر لیمجھے تو اپنے اجالے میں جانتا ہے تو آ

حیات صرف ترے موتیوں کا نام نہیںدلوں کی بکھری ہوئی خاک چھانتا ہے تو آ

تو میرے گاؤں کے حصے کی چھاؤں بھی لے جامگر بدن پہ کبھی دھوپ تانتا ہے تو آ

— غلام محمد قاصر