6 اشعار

رات اس کے سامنے میرے سوا بھی میں ہی تھا

Raat us ke samne mere siwa bhi main hi tha

رات اس کے سامنے میرے سوا بھی میں ہی تھاسب سے پہلے میں گیا تھا دوسرا بھی میں ہی تھا

میں مخالف سمت میں چلتا رہا ہوں عمر بھراور جو اس تک گیا وہ راستہ بھی میں ہی تھا

سب سے کٹ کر رہ گیا خود میں سمٹ کر رہ گیاسلسلہ ٹوٹا کہاں سے سوچتا بھی میں ہی تھا

سب سے اچھا کہہ کے اس نے مجھ کو رخصت کر دیاجب یہاں آیا تو پھر سب سے برا بھی میں ہی تھا

وقت کے محراب میں جو بے سبب جلتا رہارات نے مجھ کو بتایا وہ دیا بھی میں ہی تھا

خود سے ملنے کی تمنا پر زوال آنے کے بعدوہ سمجھتا ہے کہ اس کا آئنا بھی میں ہی تھا

— غلام محمد قاصر