6 اشعار

لب پہ سرخی کی جگہ جو مسکراہٹ مل رہے ہیں

Lab pe surkhi ki jagah jo muskurahat mil rahe hain

لب پہ سرخی کی جگہ جو مسکراہٹ مل رہے ہیںحسرتوں کا بوجھ شانوں پر اٹھا کر چل رہے ہیں

زندگی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں کسی سےخوف و خواہش کے یہ پیکر نیند میں بھی چل رہے ہیں

دل میں خیمہ زن اندھیرو کتنی جلدی میں ہے سورججسم تک جاگے نہیں ہیں اور سائے ڈھل رہے ہیں

میرے قصے میں اچانک جگنوؤں کا ذکر آیاآسماں پر میرے حصے کے ستارے جل رہے ہیں

راکھ ہوتے جا رہے ہیں ماہ و سال زندگانیجگمگا اٹھا جہاں ہم ساتھ پل دو پل رہے ہیں

مائل سجدہ غلامی بھول جا خوئے سلامیآج وہ بادل کہاں سایہ فگن جو کل رہے ہیں

— غلام محمد قاصر