6 اشعار

خواب کہاں سے ٹوٹا ہے تعبیر سے پوچھتے ہیں

Khwab kahan se toota hai ta'abeer se poochhte hain

خواب کہاں سے ٹوٹا ہے تعبیر سے پوچھتے ہیںقیدی سب کچھ بھول گیا زنجیر سے پوچھتے ہیں

جام جم لایا ہے گھر گھر دنیا کے حالاتدل کی باتیں ہم تیری تصویر سے پوچھتے ہیں

دنیا کب کروٹ بدلے گی کب جاگیں گے شہرکیسی باتیں سوئے ہوئے ضمیر سے پوچھتے ہیں

ہم سے نہ پوچھو کس جذبے نے تمہیں کیا ناکامبادشاہ ایسی باتیں اپنے وزیر سے پوچھتے ہیں

عہد سے کون مکر جائے گا تاروں کو کیا علملکھی نہیں جو تو نے اس تحریر سے پوچھتے ہیں

قاصرؔ نے تو دیکھا ہے اب تک فاقوں کا رقصجوہری طاقت کیا ہے جوہر میرؔ سے پوچھتے ہیں

— غلام محمد قاصر