6 اشعار

کتاب آرزو کے گم شدہ کچھ باب رکھے ہیں

Kitab-e-aarzoo ke gumshuda kuch baab rakhe hain

کتاب آرزو کے گم شدہ کچھ باب رکھے ہیںترے تکیے کے نیچے بھی ہمارے خواب رکھے ہیں

مکاں تو سطح دریا پر بنائے ہیں حبابوں نےاثاثے گھر کے لیکن سب نے زیر آب رکھے ہیں

یہ کنکر ان سے پہلے ہاتھ پر لہریں بنا لے گاہماری راہ میں چاہت نے جو تالاب رکھے ہیں

کناروں پر پہنچ کر تیرنے لگتی ہیں تصویریںسمندر نے سفینے تو پس گرداب رکھے ہیں

ہمارے گھر کی بنیادوں کے پتھر کیا ہوئے آخرکہیں طوفان کے ٹکڑے کہیں سیلاب رکھے ہیں

ترے آنے سے پہلے جن کو مرجھانے کی جلدی تھیوہی پتے ہوائے ہجر نے شاداب رکھے ہیں

— غلام محمد قاصر