6 اشعار

کچھ بے ترتیب ستاروں کو پلکوں نے کیا تسخیر تو کیا

Kuch be-tarteeb sitaron ko palkon ne kiya taskheer to kya

کچھ بے ترتیب ستاروں کو پلکوں نے کیا تسخیر تو کیاوہ شخص نظر بھر رک نہ سکا احساس تھا دامن گیر تو کیا

کچھ بنتے مٹتے دائرے سے اک شکل ہزاروں تصویریںسب نقش و نگار عروج پہ تھے آنکھیں تھیں زوال پذیر تو کیا

خوش ہوں کہ کسی کی محفل میں ارزاں تھی متاع بیداریاب آنکھیں ہیں بے خواب تو کیا اب خواب ہیں بے تعبیر تو کیا

خواہش کے مسافر تو اب تک تاریکئ جاں میں چلتے ہیںاک دل کے نہاں خانے میں کہیں جلتی ہے شمع ضمیر تو کیا

صحرائے تمنا میں جس کے جینے کا جواز ہی جھونکے ہوںاس ریت کے ذروں نے مل کر اک نام کیا تحریر تو کیا

لکھتا ہوں تو پوروں سے دل تک اک چاندنی سی چھا جاتی ہےقاصرؔ وہ ہلال حرف کبھی ہو پائے نہ ماہ منیر تو کیا

— غلام محمد قاصر