6 اشعار

وعدے یخ بستہ کمروں کے اندر گرتے ہیں

Waade yakh basta kamron ke andar girte hain

وعدے یخ بستہ کمروں کے اندر گرتے ہیںمیرے صحن میں جھلسے ہوئے کبوتر گرتے ہیں

کہتے ہیں ان شاخوں پر پھل پھول بھی آتے تھےاب تو پتے جھڑتے ہیں یا پتھر گرتے ہیں

خوں کے یہ دھارے ہم نے پہلی بار نہیں دیکھےلیکن اب ان دریاؤں میں سمندر گرتے ہیں

سن لیتے ہیں سرگوشی کو چپ میں ڈھلتے ہوئےچن لیتے ہیں تیر جو اپنے برابر گرتے ہیں

ذکر ہمارا ہونے لگا اب ایسا مثالوں میںدریاؤں کے رخ پہ بنے گھر اکثر گرتے ہیں

جانے کیسے زلزلے ان آنکھوں میں آن بسےپردہ اٹھنے لگتا ہے تو منظر گرتے ہیں

— غلام محمد قاصر