5 اشعار

سینہ مدفن بن جاتا ہے جیتے جاگتے رازوں کا

Seena madfan ban jaata hai jeete jagte raazon ka

سینہ مدفن بن جاتا ہے جیتے جاگتے رازوں کاجانچنا زخموں کی گہرائی کام نہیں اندازوں کا

ساری چابیاں میرے حوالے کیں اور اس نے اتنا کہاآٹھوں پہر حفاظت کرنا شہر ہے نو دروازوں کا

سامنے کی آواز سے میرے ہر اک رابطے میں حائلدائیں بائیں پھیلا لشکر انجانی آوازوں کا

آنکھیں آگے بڑھنا چاہیں پیچھے رہ جاتی ہے نظرپلکوں کی جھالر پہ نمایاں کام ستارہ سازوں کا

یوں تو ایک زمانہ گزرا دل دریا کو خشک ہوئےپھر بھی کسی نے سراغ نہ پایا ڈوبے ہوئے جہازوں کا

— غلام محمد قاصر