4 اشعار

پھر تو اس بے نام سفر میں کچھ بھی نہ اپنے پاس رہا

Phir to is be-naam safar mein kuchh bhi na apne paas raha

پھر تو اس بے نام سفر میں کچھ بھی نہ اپنے پاس رہاتیری سمت چلا ہوں جب تک سمتوں کا احساس رہا

تیری گلی میں ٹوٹ گئے سب جرم و سزا کے پیمانےایک تبسم دیکھنے والا ساری عمر اداس رہا

گلچیں کے چہرے کی رنگت روز بدلتی رہتی تھیرنج و خوشی کے ہر موسم میں پھول کا ایک لباس رہا

جن کی درد بھری باتوں سے ایک زمانہ رام ہواقاصرؔ ایسے فن کاروں کی قسمت میں بن باس رہا

— غلام محمد قاصر