6 اشعار

سب رنگ ناتمام ہوں ہلکا لباس ہو

Sab rang na-tamam hon halka libaas ho

سب رنگ ناتمام ہوں ہلکا لباس ہوشفاف پانیوں پہ کنول کا لباس ہو

اشکوں سے بن کے مرثیہ پہنا دیا گیااب زندگی کے تن پہ غزل کا لباس ہو

ہر ایک آدمی کو ملے خلعت بشرہر ایک جھونپڑی پہ محل کا لباس ہو

سن لے جو آنے والے زمانے کی آہٹیںکیسے کہے کہ آج بھی کل کا لباس ہو

یا رب کسی صدی کے افق پر ٹھہر نہ جائےاک ایسی صبح جس کا دھندلکا لباس ہو

اجلا رہے گا صرف محبت کے جسم پرصدیوں کا پیرہن ہو کہ پل کا لباس ہو

— غلام محمد قاصر