5 اشعار

پھر وہ دریا ہے کناروں سے چھلکنے والا

Phir woh darya hai kinaron se chhalakne wala

پھر وہ دریا ہے کناروں سے چھلکنے والاشہر میں کوئی نہیں آنکھ جھپکنے والا

جس سے ہر شاخ پہ پھوٹی ترے آنے کی مہکآم کے پیڑ پہ وہ بور ہے پکنے والا

یوں تو آنگن میں چراغوں کی فراوانی ہےبجھتا جاتا ہے وہ اک نام چمکنے والا

پھر کہانی میں نشانی کی طرح چھوڑ گیادل کی دہلیز پہ اک درد دھڑکنے والا

ہجر ٹکسال میں ڈھالے گا غزل کے سکےتیری محفل میں کبھی بول نہ سکنے والا

— غلام محمد قاصر