5 اشعار

رات کا ہر اک منظر رنجشوں سے بوجھل تھا

Raat ka har ek manzar ranjishon se bojhal tha

رات کا ہر اک منظر رنجشوں سے بوجھل تھاچاند بھی ادھورا تھا میں بھی نامکمل تھا

آنکھ کی منڈیروں پر آرزو نہیں لرزیاک چراغ کی لو سے اک چراغ اوجھل تھا

جا ملا ترے در کے گم شدہ زمانوں میںمیری عمر کا حاصل پیار کا جو اک پل تھا

کیوں سلگتی آوازیں بھیگ بھیگ جاتی تھیںدشت نارسائی میں دھوپ تھی نہ بادل تھا

دور تو نہ تھا اتنا خیمہ اس کے خوابوں کاراستے میں اپنی ہی خواہشوں کا جنگل تھا

— غلام محمد قاصر