4 اشعار

سوتے ہیں وہ آئینہ لے کر خوابوں میں بال بناتے ہیں

Sote hain woh aainaa le kar khwabon mein baal banate hain

سوتے ہیں وہ آئینہ لے کر خوابوں میں بال بناتے ہیںسادہ سے پرندے کی خاطر کیا ریشمی جال بناتے ہیں

امید کی سوکھتی شاخوں سے سارے پتے جھڑ جائیں گےاس خوف سے اپنی تصویریں ہم سال بہ سال بناتے ہیں

زخموں کو چھپانے کی خاطر کپڑے ہی بدلنا چھوڑ دیاپوچھو تو سہی ہم کس کے لیے اپنا یہ حال بناتے ہیں

وہ بولتی آنکھیں ملتے ہی جھک جاتی ہیں خاموشی سےہم ان کے جواب سے پھر اپنا اک اور سوال بناتے ہیں

— غلام محمد قاصر