5 اشعار

مری صہبا پرستی مورد الزام ہے ساقی

meri sahba-parasti mawrid-e-ilzam hai saqi

مری صہبا پرستی مورد الزام ہے ساقیخرد والوں کی محفل میں جنوں بدنام ہے ساقی

جنوں میں اور خرد میں در حقیقت فرق اتنا ہےوہ زیر در ہے ساقی اور یہ زیر دام ہے ساقی

سوئے منزل بڑھے جاتا ہوں مے خانہ بہ مے خانہمذاق جستجو تشنہ لبی کا نام ہے ساقی

کبھی جو چار قطرے بھی سلیقے سے نہ پی پائےوہ رند خام ہے ساقی وہ ننگ جام ہے ساقی

نہیں ہے آج بھی شائستہ آداب مے نوشیوہ اک رند بلاکش جس کا تاباںؔ نام ہے ساقی

— غلام ربانی تاباں