9 اشعار

منزلوں سے بیگانہ آج بھی سفر میرا

Manzilon se begaana aaj bhi safar mera

منزلوں سے بیگانہ آج بھی سفر میرارات بے سحر میری درد بے اثر میرا

گمرہی کا عالم ہے کس کو ہم سفر کہیےتھک کے چھوڑ بیٹھی ہے ساتھ رہ گزر میرا

وہ فروغ خلوت بھی انجمن سراپا بھیبھر گیا ہے پھولوں سے دامن نظر میرا

اب ترے تغافل سے اور کیا طلب کیجےشوق نا رسا میرا عشق معتبر میرا

دور کم عیاری ہے کچھ پتہ نہیں چلتاکون میرا قاتل ہے کون چارہ گر میرا

ناگزیر ہستی ہیں فصل گل کے ہنگامےشوزش نمو تیری فتنۂ شرر میرا

کچھ بتاؤ تو آخر کیا جواب دوں اس کواک سوال کرتا ہے روز مجھ سے گھر میرا

آسماں کا شکوہ کیا وقت کی شکایت کیوںخون دل سے نکھرا ہے اور بھی ہنر میرا

دل کی بے قراری نے ہوش کھو دیے تاباںؔورنہ آستانوں پر کب جھکا تھا سر میرا

— غلام ربانی تاباں