7 اشعار

ملے گا درد تو درماں کی آرزو ہوگی

milega dard to darman ki aarzu hogi

ملے گا درد تو درماں کی آرزو ہوگیتمام عمر غرض صرف جستجو ہوگی

پھر آج دل سے مخاطب ہے شب کا سناٹاپھر آج صبح تلک ان کی گفتگو ہوگی

جنوں کا شغل سلامت رفو کی فکر نہ کرکسے خبر ہے کہ کب فرصت رفو ہوگی

ابھی جلیں گے یہاں اور بے رخی کے چراغاس انجمن میں وفا اور سرخ رو ہوگی

چلے گی بات جہاں تیری کج ادائی کیمری وفا بھی تو موضوع گفتگو ہوگی

بچیں گے برق حوادث سے آشیاں کب تککہ تیز تر ابھی تحریک رنگ و بو ہوگی

ملیں گے راہ میں ایسے بھی ہم سفر تاباںؔقدم قدم جنہیں منزل کی جستجو ہوگی

— غلام ربانی تاباں