9 اشعار

قصور عشق میں ظاہر ہے سب ہمارا تھا

Qusoor-e-ishq mein zaahir hai sab hamara tha

قصور عشق میں ظاہر ہے سب ہمارا تھاتری نگاہ نے دل کو مگر پکارا تھا

وہ دن بھی کیا تھے کہ ہر بات میں اشارا تھادلوں کا راز نگاہوں سے آشکارا تھا

ہوائے شوق نے رنگ حیا نکھارا تھاچمن چمن لب و رخسار کا نظارا تھا

فریب کھا کے تری شوخیوں سے کیا پوچھیںحیات و مرگ میں کس کی طرف اشارا تھا

سجود حسن کی تمکیں پہ بار تھا ورنہجبین شوق کو یہ ننگ بھی گوارا تھا

چمن میں آگ نہ لگتی تو اور کیا ہوتاکہ پھول پھول کے دامن میں اک شرارا تھا

تباہیوں کا تو دل کی گلہ نہیں لیکنکسی غریب کا یہ آخری سہارا تھا

بہت لطیف تھے نظارے حسن برہم کےمگر نگاہ اٹھانے کا کس کو یارا تھا

یہ کہیے ذوق جنوں کام آ گیا تاباںؔنہیں تو رسم و رہ آگہی نے مارا تھا

— غلام ربانی تاباں