7 اشعار

شوق کے خواب‌ پریشاں کی ہیں تفسیریں بہت

Shauq ke khwab-e-pareshan ki hain tafseerain bahut

شوق کے خواب‌ پریشاں کی ہیں تفسیریں بہتدامن دل پر ابھر آئی ہیں تصویریں بہت

دوستوں کی بزم میں کچھ سوچ کر لب سی لیےورنہ دامان تصور میں ہیں تقریریں بہت

زندگی تیرے لیے دفتر کہاں سے لائیےچند بوسیدہ ورق ہیں اور تحریریں بہت

خواہشیں ہی خواہشیں ہیں حسرتیں ہی حسرتیںدل سا دیوانہ سلامت ہے تو زنجیریں بہت

بات اتنی ہے کوئی ہو تو سزاوار صلیباس گئے گزرے زمانے میں بھی تعزیریں بہت

زندگی کی تلخ تر سچائیوں کا کیا علاجیوں تو اہل مصلحت کرتے ہیں تدبیریں بہت

کاروبار شوق کی حاصل ہیں وہ پسپائیاںجن پہ تاباںؔ ناز فرماتی ہیں تقدیریں بہت

— غلام ربانی تاباں