6 اشعار

بے سبب مسکرا رہا ہے چاند

Be sabab muskura raha hai chand

بے سبب مسکرا رہا ہے چاند

«بے سبب مسکرا رہا ہے چاند» گلزار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

بے سبب مسکرا رہا ہے چاندکوئی سازش چھپا رہا ہے چاند

جانے کس کی گلی سے نکلا ہےجھینپا جھینپا سا آ رہا ہے چاند

کتنا غازہ لگایا ہے منہ پردھول ہی دھول اڑا رہا ہے چاند

کیسا بیٹھا ہے چھپ کے پتوں میںباغباں کو ستا رہا ہے چاند

سیدھا سادہ افق سے نکلا تھاسر پہ اب چڑھتا جا رہا ہے چاند

چھو کے دیکھا تو گرم تھا ماتھادھوپ میں کھیلتا رہا ہے چاند

— گلزار