5 اشعار

دکھائی دیتے ہیں دھند میں جیسے سائے کوئی

Dikha'i dete hain dhund mein jaise saa'e koi

دکھائی دیتے ہیں دھند میں جیسے سائے کوئی

«دکھائی دیتے ہیں دھند میں جیسے سائے کوئی» گلزار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

دکھائی دیتے ہیں دھند میں جیسے سائے کوئیمگر بلانے سے وقت لوٹے نہ آئے کوئی

مرے محلے کا آسماں سونا ہو گیا ہےبلندیوں پہ اب آ کے پیچے لڑائے کوئی

وہ زرد پتے جو پیڑ سے ٹوٹ کر گرے تھےکہاں گئے بہتے پانیوں میں بلائے کوئی

ضعیف برگد کے ہاتھ میں رعشہ آ گیا ہےجٹائیں آنکھوں پہ گر رہی ہیں اٹھائے کوئی

مزار پہ کھول کر گریباں دعائیں مانگیںجو آئے اب کے تو لوٹ کر پھر نہ جائے کوئی

— گلزار