6 اشعار

گرم لاشیں گریں فصیلوں سے

Garm lashein girin faseelon se

گرم لاشیں گریں فصیلوں سے

«گرم لاشیں گریں فصیلوں سے» گلزار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

گرم لاشیں گریں فصیلوں سےآسماں بھر گیا ہے چیلوں سے

سولی چڑھنے لگی ہے خاموشیلوگ آئے ہیں سن کے میلوں سے

کان میں ایسے اتری سرگوشیبرف پھسلی ہو جیسے ٹیلوں سے

گونج کر ایسے لوٹتی ہے صداکوئی پوچھے ہزاروں میلوں سے

پیاس بھرتی رہی مرے اندرآنکھ ہٹتی نہیں تھی جھیلوں سے

لوگ کندھے بدل بدل کے چلےگھاٹ پہنچے بڑے وسیلوں سے

— گلزار